"مسٹر جیکاک سے مسٹر صادق تک" (1)
تقریبا 70 سال قبل دوسری جنگ عظیم میں ایک اجنبی مرد ـ جو مقامی لوگوں سے کسی قسم کی شباہت نہیں رکھتا تھا ـ بصرہ سے جنوبی ایران میں داخل ہؤا اور بختیاری قبائل میں سے "موری" قبیلے کے پاس پہنچا۔ اس شخص نے اس قبیلے کے لئے گلہ بانی کا کام شروع کیا۔ موری قبیلہ خوزستان اور چہار محال صوبوں کے درمیان کوچ کرتا رہتا تھا: سردیوں میں خوزستان جاکر بسیرا کرتا تھا اور گرمیوں میں چہارمحال کی طرف پلٹ آتا تھا۔
اس شخص نے اپنے آپ کو اندھے اور بہرے شخص کے عنوان سے متعارف کرایا تھا اور سات سال تک موری قبیلے کی گلہ بانی میں مصروف رہا۔ اور جس طرح کہ وہ بالکل خاموشی سے آیا تھا بالکل خاموشی سے غائب ہوگیا۔
یہ شخص مسٹر جیکاک کہلاتے ہے۔ انٹیلجنس سروس کا ایجنٹ۔۔۔ سات سالہ خاموشی اور سات سالہ بلااجرت مشقت کی بنا پر اب وہ مزید گلہ بان یا گڈریا نہیں رہا تھا بلکہ عابد و زاہد شخص میں تبدیل ہوچکا تھا، بختیاریوں سے بھی زیادہ بختیاری، بن چکا تھا۔
اس کی کرامات یہ تھیں کہ عصا کے اشارے سے اس کے جوتے اس کے سامنے سیدھے ہوجاتے تھے، اور آگ اس کی داڑھی جلانے سے قاصر تھی؛ سادہ دل قبائلی کیا جانتے تھے کہ مقناطیس بھی پایا جاتا ہے اور غیر محرق یا ناسوز (Firproof) مواد بھی دستیاب ہے۔
اس قدر لوگوں نے برطانوی جاسوس کے کشف و کرامات کے مظاہر دیکھے کہ اس کا نام "سید جیکاک" پڑا۔۔۔۔ اس طرح کے واقعات ہمارے ہاں کوہاٹ، پنجاب کے مختلف شہروں، کوئٹہ اور کراچی اور حتی کے قبائلی علاقوں میں نیز بھارت کے مختلف شہروں میں ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں اور مسلمانوں کے بیچ بہروپ بدل بدل کر اپنا کام چلاتے رہے ہیں۔ افغانستان میں آسٹریلوی مسٹر وید کو شینواری خان، سید، ملک وغیرہ کے ناموں سے مختلف شہروں میں امان اللہ خان کا تختہ الٹنے کے لئے استعمال کیا گیا؛ یا پھر انگریزوں نے علمائے دیوبند کو اپنے آدمیوں کے طور پر برصغیر سے افغانستان میں داخلے کی اجازت دے دی تا کہ انگریزی مقاصد کے لئے کام کریں اور افغانی دانشوروں کے بقول ان ایجنٹوں نے 100 سال گذرنے کے باوجود ابھی تک افغانوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا۔
انیسویں صدی عیسوی میں ۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایرانی جنوبی علاقوں کی عملی حکمرانی سید جیکاک کے ہاتھ میں تھی، اس کا مشن یہ تھا کہ علاقے سے نکل کر لندن روانہ کئے جائے والے تیل کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہ ابھرے!! اس نے ایک پیر و مرشد کی حیثیت سے "طلوعی" (یا تولوئی یا سروشی) نامی فرقے کی بنیاد بھی رکھی تھی اور یہ فرقہ جیکاک کی فوج اور پولیس کا کردار ادا کرتا تھا۔
ذاتی زندگی میں جیکاک تارک دنیا تھا اور اس کے انگریز ساز فرقے کی تعلیمات میں بھی ترک دنیا کو اولیت حاصل تھی، دنیاوی امور ان کے ہاں بالکل بےوقعت تھے، مٹی کو بےقدر و قیمت سمجھتا تھا اور تیل کو ایک بےوقعت مادہ سمجھتا تھا۔
تیل کی صنعت قومیائے جانے کی تحریک چلی تو مسٹر جیکاک نے ایک مشہور شعرگونہ جملہ افواہ عامہ پر رائج کردیا جس کو طلوعی فرقے کے افراد خیمہ بہ خیمہ جاکر لوگوں کے لئے پڑھتے تھے جو کچھ یوں یوں تھا:
تو کہ مہر علی مین دِلِتِہ
نفت ملی سی چِنِتِہ
(تم جو حب علی(ع) دل میں رکھتے ہو، قومیایا ہؤا تیل کس لئے چاہتے ہو؟)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲